What is life 04-03-2021

2개월 전


What is life

A man of five or six feet, whose life is not in his own hands, who did not come into being by his own will, nor can he live forever by his own will. If he stops breathing, he cannot restore it, but this man of five or six feet is standing as a claimant of God and is living a life worse than that of an animal.
Apparently it has no enemy but it is its own great enemy. Man who explores the universe by stepping on the moon today is also deprived of the God hidden in his heart. Who created him? And why created?
When no factory in the world comes into being automatically, how did such a big factory in the world come into being and not only did it come into existence but it is running continuously.
If the sun moves an inch away from its place, there is no force that can bring it back to its place. This is the sky whose heights our eyes see every day, which extends to the limit of sight.

To this day, no one has been able to touch it, let alone cover it. There are countless stars in the sky that are many times bigger than our sun. But they reveal their reality to us in the sky every day, that they are nothing, that there are many galaxies that we are in a state of time to reach. But our intellect is forgiven and dazzled.
To those who see, everything looks like the sky, but those who do not see, even after searching for the sky, could not reach the sky. We have plenty of time to think and understand, but we are not ready to think. This stagnation of thinking is likening man to an animal. The clock of our life is counting down and life is melting like ice.
Apparently, those who understand everything have understood everything in this life. If this is all life and nothing after death

So very good is he who has obtained the wealth of the world in every lawful and unlawful way. But if it is not as it seems, then what will happen to the man who wasted all his time. The human intellect says that there is no harm in believing in God, but there is no harm in not believing in God. If God is believed, then his divinity also begins to appear automatically. Of course, when He created, there must have been some purpose. How can I believe that when nothing in the world is without a purpose, we have come into the world without a purpose? The sun, the moon, the stars, and every particle of this world are proof that nothing was created without purpose. There is nothing in this factory of nature that has the power to ruin this factory. If anyone is causing damage in this factory, it is this person. Every living and non-living thing is imprisoned in its own sphere. The lion hunts

So after attacking only one animal and satisfying his hunger, he does not attack anyone without any reason. In the same way, every living thing does its work in its own sphere. To date, we have not seen any living thing, such as a well, drinking water from a pipe. The fish may have tried to get out of the water and live on the ground, and so on and so forth. But it has been observed that man has hunted many human beings to cool his anger. Man began to fly in the air and go underwater. The smoke created by him began to change the environment. Man has the power to do whatever he wants. Doesn't the creator of the world care about protecting his world? He doesn't seem to care

Anyone can do whatever he wants. But if you think about it, then this freedom seems to be somewhat limited. The history of the world bears witness to the fact that when a nation or a human being posed a threat to the existence of the world, the law of this God came into being and many Nimrod, Hitler and Genghis Khan disappeared from history after heaping skulls. Now it would not be wrong for me to say that the Lord of the worlds loves human beings immensely. Had it not been so, he would never have ended this world. Just as a mother loves her child and then rebukes him for what is wrong, so the Creator God loves more than 70 mothers. Selfless and selfless love! He also sometimes reprimands us to get straight.

But like a spoiled child, we get so lost in the toys of our world that we become so oblivious to the Creator that we seem to have grown so big that we have grown up. Then when the Creator ever snatches one of our loved ones (toys) from our hands to attract us, we start complaining about it. None of our buses run on it. But still he never left us alone for a moment. He is attracted to us, but even if someone calls him. If he ever gets the time, call him once in solitude only once with a sincere heart, then he will see and then he will tell whether there is a God or not. Then he will tell you what life is like


پانچ چھ فٹ کا انسان کہ جس کی زندگی خود اس کے اختیار میں نہیں جو خود اپنی مرضی سے وجود میں نہیں آیا اور نہ اپنی مرضی سے ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے۔ جس کی اگر سانس رک جائے تو وہ اسے بحال نہیں رکھ سکتا لیکن یہی پانچ چھ فٹ کا انسان کہیں خدائی کا دعویدار بن کر کھڑا ہے تو کہیں جانور سے بھی بدتر زندگی بسر کررہا ہے۔ بظاہر اس کا کوئی دشمن نہیں لیکن یہ خود اپنا بہت بڑا دشمن ہے۔ چاند پر قدم رکھ کر کائنات کی کھوج کرنے والا انسان آج خود اپنے دل میں چُھپے خدا سے بھی محروم ہے۔اسے کس نے پیدا کیا ہے؟ اور کیوں پیدا کیا ہے؟ جب دنیا کا کوئی کارخانہ خود بخود وجود میں نہیں آتا تو اتنی بڑی دنیا کا کارخانہ کیسے وجود میں آگیا ہے اور صرف یہی نہیں کہ وجود میں آگیا ہے بلکہ مستقل مزاجی سے چل رہا ہے۔ یہ سورج جو اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ہٹ جائے تو کوئی ایسی قوت نہیں جو اسے اپنی جگہ پر لا سکے۔ یہ آسمان جس کی بلندیوں کو ہماری آنکھیں روز دیکھتی ہیں جو حد نگاہ تک پھیلا ہوا ہے۔
کوئی اسے آج تک چھونا تو درکنار اس کا احاطہ بھی نہیں کرسکا۔ اسی آسمان پر پھیلے یہ ان گنت ستارے جو ہمارے سورج سے بھی کئی گنا بڑے ہیں۔ لیکن اپنی حقیقت روز آسمان پر ہمارے سامنےعیاں کرتے ہیں کہ وہ کچھ بھی نہیں کہ ایسی کئی کہکشائیں ہیں جہاں پہنچنے کے لئے ہم وقت کی قید میں ہیں۔اس جیسی کتنی ہی حقیقتیں ہیں جو ہمارے آس پاس بکھری ہوئی ہیں۔ لیکن ہماری عقل ماؤف ہے اور نظر خیرہ ۔ دیکھنے والوں کو آسمان کی طرح سب کچھ نظر آرہا ہے لیکن نہ دیکھنے والے آسمان کی تلاش میں نکل کر بھی آسمان تک نہیں پہنچ پائے۔ ہمارے پاس سوچنے اور سمجھنے کیلئے بہت وقت ہے لیکن ہم سوچنے کیلئے قطعاً تیار نہیں۔ یہی سوچ کا جمود انسان کو جانوروں سے مشابہہ کر رہا ہے۔ہماری زندگی کی گھڑی الٹی گنتی چل رہی ہے اور زندگی برف کی مانند پگھلتی جا رہی ہے۔ ظاہر کو ہی سب کچھ سمجھنے والے اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔ اگر یہی سب کچھ زندگی ہے اور موت کے بعد کچھ نہیں

تو بہت اچھا رہا وہ جس نے دنیا کی مال و متاع کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے حاصل کیا۔ لیکن اگر ایسا نہیں جیسا کہ نظر بھی آتا ہے تو پھر کیا بنے گا اس انسان کا جس نے اپنا سارا وقت ضائع کر دیا۔ انسانی عقل کہتی ہے کہ خدا کے مان لینے میں کوئی نقصان نہیں لیکن نہ ماننے میں سراسر نقصان ہے۔اگر خدا کو مان لیا جائے تو پھر اس کی خدائی بھی خود بخود نظر آنا شروع ہوجاتی ہے۔ یقینا جب اس نے پیدا کیا ہے تو کوئی نہ کوئی مقصد بھی رہا ہوگا۔ میں یہ بات کیسے مان لوں کہ جب دنیا میں کوئی چیز بھی بغیر کسی مقصد کے نہیں تو ہم بے مقصد ہی دنیا میں آئے ہوئے ہیں۔ سورج، چاند، ستارے اور اس دنیا کا ذرہ ذرہ اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی گئی۔ قدرت کے اس کارخانہ میں اگر غور کریں تو کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کارخانہ کو بگاڑنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اگر کوئی اس کارخانہ میں بناؤ بگاڑ کا سبب بن رہا ہے تو وہ یہی انسان ہے۔ ہر جاندار و بے جان اپنے اپنے دائرہ میں قید ہے۔ شیر شکار کرتا ہے

تو صرف ایک جانور کا اور اپنی بھوک مٹانے کے بعد بلاوجہ کسی پر حملہ نہیں کرتا۔ اسی طرح ہر جاندار اپنے اپنے دائرہ میں اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔آج تک ہمارے مشاہدہ میں ایسی کوئی بات نہیں آئی کہ کسی جاندار مثلاً کوے نے پائپ سے پانی پینا شروع کر دیا ہو۔ مچھلیوں نے پانی سے نکل کر زمین پر بھی رہنے کی کوشش کی ہو وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ بات مشاہدہ میں ہے کہ انسان نے اپنے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے کئی انسانوں کو شکار کرلیا ہو۔ انسان نے ہوا میں اڑنا اور پانی کے اندر جانا شروع کر دیا۔ اس کے پیدا کردہ دھوئیں سے ماحول میں تبدیلی واقع ہونے لگی۔انسان کے پاس یہ اختیار کس قدر ہے کہ وہ جو چاہے کرتا پھرے۔ کیا دنیا بنانے والے کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ اپنی دنیا کی حفاظت کرے۔ بظاہر تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اسے کوئی پرواہ نہیں ہے

جو چاہے کوئی کرتا پھرے۔ لیکن اگر سوچیں تو پھر یہ آزادی کچھ محدود سی دکھائی دینے لگتی ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب کوئی قوم یا انسان دنیا کے وجود کیلئے خطرہ بنا اس خدا کا قانون حرکت میں آیا اور کئی نمرود، ہٹلر اور چنگیز خان کھوپڑی کے انبار لگانے کے بعد تاریخ سے اس طرح ختم ہوگئے کہ جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔اب اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ وہ رب العالمین انسانوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کبھی کا اس دنیا کو ختم کردیتا۔ جس طرح ایک ماں اپنے بچے سے محبت کرتی ہے اور پھر اس کو غلط بات پر سرزش بھی کرتی ہے اسی طرح وہ پیدا کرنے والا خدا 70 ماؤں سے زیادہ بڑھ کر محبت کرتا ہے۔ بے لوث اور بے غرض محبت! وہ بھی کبھی کبھی ہماری سرزنش کرتا ہے کہ ہم صراط مستقیم پر آجائیں۔

لیکن ہم بگڑے ہوئے بچے کی طرح اپنے دنیا کے کھلونوں میں کچھ اس قدر گم ہوجاتے ہیں کہ اس خالق سے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ جیسے خود ہی پل بڑھ کر اتنے بڑے ہوگئے ہیں۔ پھر جب وہ خالق اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے کبھی ہمارے ہاتھ سے ہمارے کسی عزیز (کھلونے) کو چھین لیتا ہے تو ہم گڑ گڑا کر اس سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ اس پر ہمارا کوئی بس نہیں چلتا۔لیکن پھر بھی اس نے کبھی ایک لمحہ کیلئے بھی ہمیں تنہا نہیں چھوڑا۔ وہ ہماری طرف متوجہ ہے لیکن کوئی اسے پکارے تو سہی۔کبھی وقت ملے تو تنہائی میں ایک بار صرف ایک بار اسے سچے دل سے پکار کر تو دیکھئے پھر بتائیے گا کہ خدا ہے کہ نہیں؟ پھر وہ بتائے گا زندگی کیا ہے

Authors get paid when people like you upvote their post.
If you enjoyed what you read here, create your account today and start earning FREE STEEM!
Sort Order:  trending

You explain life importance in our world that's is so interesting post and I really appreciate your work good job

بھائ جان آپ پوسٹ نہت اچھی لکھتے ہیں

it is good diary and you better life stay always good amin

It is a great thing that you have shared with us a very good world. It brings a lot of awareness