باجماعت نماز کی فضیلت

7개월 전

میرے دوستو بھائیوں السلام علیکم ۔سنو سب بھائیوں کیسے ہو ٹھیک ہو آج دن کیسا گزرا الحمدللہ میرا تو بہت اچھا دن گزرا ۔اور امید ہے کہ آپ کا بھی دن اچھا گزرا ہو گا اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین ثم آمین ۔آج میں عصر کی نماز پڑھنے گیا ۔بڑا سکون آیا۔سوچا آج نماز کی فضیلت بتاؤں اسلیۓ آج میں آج کوئی ڈائری نہیں لکھ رہا میں آج آپ کو اہم فرض نماز کی فضیلت باجماعت نماز کی فضیلت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں ۔نماز ھر مسلمان پر فرض ہے مرد عورت پر فرض ہے ۔دوستو میں آپ کو نماز کے بارے میں تفصیل ہی بتاتا ہوں

اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا.(النساء ۴: ۱۰۳)
’’بے شک، نماز مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔ ‘‘

اسلام کی عبادات میں اہم ترین عبادت نماز ہے ۔

قرآن میں اللّه نے ارشاد فرمایا ہے :

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ. تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ، یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ. (السجدہ ۳۲: ۱۵۔۱۶)
’’ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں، (اے محبوب پیغمبر) کہ اُنھیں جب اِن کے ذریعے سے یاد دہانی کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ ہرگز تکبر نہیں کرتے۔ اُن کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ‘‘

یہی بات سورۂ روم کی اِن آیات سے بھی واضح ہوتی ہے :

فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا ، فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا، لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ، ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ، مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ، وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلاَ تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ.(۳۰: ۳۰۔۳۱)

’’ سو ایک اللّه کے ہو کر تم (اپنے باپ ابراہیم کی طرح اب ) اپنا رخ اُس کے دین کی طرف کیے رہو۔ تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو،

(اے حبیب پیغمبر لوگوں کو بتا دیں)، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اِس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔تم سب امت (اِسی دین کی پیروی کرو)اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اور اُس سے ڈرتے رہو اور نماز کا اہتمام رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔‘‘

قرآن میں جہاں اجمال کا اسلوب ملحوظ ہے ، وہاں تو بے شک ، ایمان کے بعد ’ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‘ کے الفاظ آئے ہیں، لیکن جہاں اِس اجمال کی تفصیل پیش نظر ہے ، وہاں سب سے پہلے نماز ہی کا ذکر کیا گیا ہے :

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ.(البقرہ ۲: ۳)
’’جو بن دیکھے مان رہے ہیں اور نماز کا اہتمام کر رہے ہیں ۔‘‘

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ .(البقرہ ۲: ۲۷۷)
’’ہاں ، جو لوگ ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے اور نماز کا اہتمام کیا۔

‘‘تزکیہ جسے قرآن میں دین کا مقصد قرار دیا گیا ہے ، اُس تک پہنچنے کے لیے بھی سب سے پہلے اِسی کی ہدایت ہوئی ہے :

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی.(الاعلیٰ ۸۷: ۱۴۔۱۵)
’’البتہ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اِس کے لیے اپنے رب کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی ۔‘‘

پھر یہی نہیں، قرآن نے جن مقامات پر اُن اعمال کا ذکر کیا ہے جو قیامت میں فوزوفلاح کے لیے ضروری ہیں ، وہاں بھی ابتدا نماز ہی سے کی ہے ۔سورۂ مومنون میں ہے :

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ، وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ، وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ، وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ ...وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ، وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوٰتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ.(۲۳: ۱۔۹)

’’اپنی مراد کو پہنچ گئے ایمان والے جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں، جو لغویات سے دور رہنے والے ہیں اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں
IMG20210625180929.jpg

IMG20210625180910.jpg

IMG20210625180906.jpg

IMG20210625180846.jpg
... اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘

اِسی طرح معارج میں اللّه نے فرمایا ہے :

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا، اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَآئِمُوْنَ، وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّآءِلِ وَالْمَحْرُوْمِ، وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ، وَالَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ، اِنَّ عَذَابَ رَبِّھِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ، وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ... وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَہْدِھِمْ رَاعُوْنَ، وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِشَھٰدٰتِھِمْ قَآءِمُوْنَ، وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰیصَلاَتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ، اُولٰٓءِکَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوْنَ. (۷۰: ۱۹۔۳۵)
’’(یہ اِسی طرح جلدی مچاتے رہیں گے، آپ اِن کی پروا نہ کرو)۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت بے صبرا پیدا ہوا ہے۔ اُس پر جب مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب راحت ملتی ہے تو سخت بخیل بن جاتا ہے۔ ہاں، مگر وہ نہیں جو نمازی ہیں، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں، جن کے مالوں میں سائل و محروم کے لیے ایک مقرر حق ہے، جو روز جزا کو برحق مانتے ہیں،

جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں — اِس لیے کہ اُن کے پروردگار کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے کہ اُس سے کوئی نڈر ہو جائے— جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ...

جو (خلق اور خالق، دونوں کے معاملے میں) اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں، جو اپنی گواہی پر قائم رہتے ہیں اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی ہیں جو (بہشت کے) باغوں میں ہوں گے، بڑی عزت کے ساتھ۔‘‘۔بھائیوں دعاؤں میں یاد رکھنا اللہ آپ کا نگہبان ہو ۔میں آپ کا بھائی آپ کا دوست عمیر خان ۔خدا حافظ

Authors get paid when people like you upvote their post.
If you enjoyed what you read here, create your account today and start earning FREE STEEM!
STEEMKR.COM IS SPONSORED BY
ADVERTISEMENT
Sort Order:  trending

Jazak Allah

·

مہربانی